ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انکم ٹیکس چھاپوں کے افشاء میں مرکز ملوث: کھرگے

انکم ٹیکس چھاپوں کے افشاء میں مرکز ملوث: کھرگے

Sat, 18 Feb 2017 11:02:29    S.O. News Service

بنگلور،16؍فروری(ایس اونیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا کے پارلیمانی سکریٹری ورکن کونسل گووند راج کے گھر پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپے کے بعد اس سلسلے میں اہم دستاویزات کے مشمولات کو سابق وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا پر آشکار کرنے کا سابق مرکزی وزیر اور کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے نے آج سنگین الزام لگایا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یڈیورپا کے بیان اور مبینہ ڈائری کے متعلق جو دعوے کئے جارہے ہیں، اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے سیاسی حریفوں کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی طرف سے مارے گئے چھاپوں کی کوئی اطلاع سوائے ملزم اور عدالت کے کسی کو نہیں دی جاتی ، لیکن اس معاملہ میں یڈیورپا اور ان کے ہمنوا جس طرح کھلے عام دعوے کررہے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مودی حکومت کی ایماء پر ریاست کے کانگریس قائدین کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسی کسی بھی کوشش کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے ایک کانگریس قائد کے گھر پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپے کے بعد ضبط کی گئی ڈائری یڈیورپا کے پاس کس طرح آئی ، پہلے یڈیورپا کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ بی جے پی ریاستی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کھرگے نے کہاکہ مرکزی ایجنسیوں کی طرف سے چھاپے مارنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، لیکن ان کی طرف سے ضبط شدہ ثبوت کی تفصیلات اگر سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں لگ رہی ہیں تو ان ایجنسیوں کی معتبریت پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ کرناٹک کے ساتھ سوتیلا رویہ اپنانے کا الزام مرکزی حکومت پر لگاتے ہوئے ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ ریاست کا کسان سخت مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان کی مدد کرنے کی بجائے مرکزی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ خشک سالی کے متاثرین کی امداد کیلئے 1750 کروڑ روپیوں کی رقم فراہم کرنے کے اعلان کے باوجود اب تک مرکزی حکومت نے صرف 450 کروڑ روپے مہیا کرائے ہیں، اس سے کسانوں کو مناسب امداد مہیا کرانا مشکل ہوتاجارہاہے۔ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں راحت کاری بھی نہیں ہوپارہی ہے۔ ریاست بھر میں بارش کی قلت کے سبب زرعی سرگرمیاں نہیں چل پائی ہیں۔ مانسون کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ان کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت نے مرکز کو رپورٹ پیش کرکے بتایا تھاکہ 25ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے، ان میں سے کرناٹک نے مرکز سے 7802 کروڑ روپیوں کی امداد طلب کی تھی، جس میں سے مرکز نے صرف 1782 کروڑ روپے منظور کئے اور اس میں سے بھی اب صرف 450 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ یہی صورتحال اگر اس ریاست میں ہوتی جہاں بی جے پی یا اس کی کوئی حلیف جماعت اقتدار میں ہوتو مرکزی حکومت کی طرف سے امداد کا معیار الگ ہوتا۔


Share: